Header Ads Widget

Responsive Advertisement

Ticker

6/recent/ticker-posts

سورہ الفاتحہ


 

 سورہ الفاتحہ  

  بسم اللہ الرحمن الرحیم   

الحمدللہ رب العالمین . الرحمن الرحیم. مالک یوم الدین. ایاک نعبد وایاک نستعین. اھدنا الصراط المستقیم. صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولاضالین آمین!

  • تعارف (introduction)

سورہ الفاتحہ قران پاک کی ترتیب کے مطابق سب سے پہلی سورت ہے ۔سورہ الفاتحہ قران پاک کی پہلی سورت ہے جو مکمل نازل ہوئی۔سورہ فاتحہ کی سات آیات ہیں اور ایک رکوع ہے ۔اس سورت کو قران پاک کے شروع میں رکھنے کی وجہ یہ ہےپڑھنے والے کو اپنے خالق کی صفات کا علم ہو اور اس  اسے اس بات کا علم ہو کہ وہ کس طرح اپنے خالق کا فضل مانگے۔یہ سورت ایک دعا ہے اللہ تعالی کی طرف سے ایک تحفہ ہے سورہ الفاتحہ کے مختلف نام ہیں الفاتحہ اس کا مشہور نام ہے ام الکتاب، سبع المثانی، اساس القران کے نام ہیں۔
اور یہ سورۃ الشفا بھی ہے اس سورت کو پڑھنے سے انسان اپنے اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے اور انسان کی مشکلیں پریشانیاں دور ہو جاتی ہیں اللہ کے ہاں اس صورت کا اتنا درجہ ہے کہ دن میں پانچ بار نماز پڑھتے ہیں تو اس سورت کو ہم لوگوں نے لازمی پڑھنا ہوتا ہے اس کے بغیر نماز مکمل ہی نہیں ہو سکتی۔

  • ترجمہ (Translation)

  1. سب تعریف اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے ۔
  2. بہت مہربان نہایت رحم والا ہے۔
  3. جزا کے دن کا مالک ہے۔
  4. ہم اللہ کی ہی عبادت کرتے ہیں اور اور اللہ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔
  5. ہمیں سچی اور سیدھی راہ دکھا۔
  6. ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے اپنا فضل و کرم کیا۔
اور نہ ہی ان لوگوں کا راستہ جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ ہی گمراہوں کا۔

  • تفسیر (Tafseer)

سورہ الفاتحہ میں اللہ تعالی کی تعریف بیان کی گئی ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔جس طرح ہم کوئی بنی ہوئی چیز دیکھیں تو فورا ذہن میں یہ بات اتی ہے کہ اس کے بنانے والا کون ہے اس طرح جب ہم کائنات پر نظر دوڑاتے ہیں تو ہمارا دھیان اس کے خالق کی طرف جاتا ہے اس کے بنانے والے کی طرف جاتا ہے وہ خالق  کائنات ہے جس نے بنایا ہے دنیا کو وہی دنیا کا پالنے والا ہے ۔اس پوری کائنات میں انسان حیوان چرند پرند جو چیز بھی ہے ان سب کا ذمہ اللہ تعالی نے لیا ہے۔
سورہ الفاتحہ میں اللہ تعالی اپنے بندے سے کہہ رہا ہے کہ روز جزا کا مالک ہے میں ہوں یعنی قیامت کے دن کا مالک میں ہوں  دنیا میں بظاہر لوگ تو چیزوں کے مالک ہیں ملکیت تو اصل میں اللہ تعالی کی ہے جو ہر چیز کا خالق ہے بنانے والا ہے قیامت کے دن ہر ایک کو اس کا نام اعمال دیا جائے گا اور میدان حشر میں جمع کیا جائے گا اس دن انسان پر واضح ہو جائے گا کہ جو حقیقی ملکیت ہے وہ اللہ تعالی کی ہے ہر چیز کا مالک اللہ تعالی ہے۔
سورہ فاتحہ میں اللہ تعالی نے اپنے بندے کو بڑی پیاری دعا سکھائی ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں یہ صرف اللہ کی عبادت کرنی چاہیے کسی دوسرے کو اس کا شریک نہیں بنانا چاہیے جب ہم ڈائریکٹ اللہ پاک سے مانگتے ہیں تو وہ ہمیں بے حد نوازتا ہے۔اس سورہ میں اللّٰہ پاک فرما رہے ہیں کہ میرے بندہ مجھ سے دعا مانگے اور مجھ سےمدد مانگے کیونکہ اللہ کے سوا کوئی کارساز نہیں ہے کوئی مدد کرنے والا نہیں ہے اور اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیے۔
قران پاک ہے کے شروع میں سورۃ فاتحہ کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندے کو دعا سکھا رہے ہیں کہ اے میرے بندے تمہیں اللہ سے ہی مدد مانگنی ہے اور اسی کی عبادت کرنی ہے اور اس سے سیدھی راستہ مانگنا ہے ان لوگوں کا راستہ مانگنا ہے جن پر اللہ تعالی نے اپنا انعام کیا نہ کہ ان لوگوں کا راستہ جن پر اللہ تعالی کا غضب ہوا جو گمراہ لوگ تھے جن سے اللہ پاک ناراض تھے جن کے لیے دوزخ تیار کی گئی ہے سورۃ فاتحہ قران پاک کے شروع میں ہے تو اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان کو ہر وقت توبہ کرنی چاہیے اور اپنے اللہ سے مدد مانگنی چاہیے کیونکہ اللہ کے سوا کوئی کارساز کوئی مددگار نہیں ہے۔



Post a Comment

0 Comments