Header Ads Widget

Responsive Advertisement

Ticker

6/recent/ticker-posts

سورہ البقرہ (1تا18)



 

سورہ البقرہ 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تعارف (Introduction) 

سورہ البقرہ قرآن پاک کی دوسری سورت ہے۔قران پاک کی سب سے لمبی صورت ہے۔سورہ البقرہ مدنی سورت ہے۔سورہ البقرہ کی 286 آیا ت اور 40رکوع ہیں۔بقرہ کے معنی گائے کے ہیں کیونکہ بنی اسرائیل کو اس سورت میں گائے ذبح کرنے کا حکم ملا۔اس صورت میں اللہ تعالی نے بنیادی عقائد بتائے ہیں۔اس سورہ کا شروع اس طرح ہے کہ  یعنی اللہ پر یقین اس کے رسولوں پر یقین اور یوم آخرت پر یقین ہے۔اس سورہ میں انسان کی تین کیٹگری کا ذکر ہوا ہے مومن، کافر اور منافق۔اس سورہ میں حضرت ادم علیہ السلام کی تخلیق کا بتایا اللہ نے تاکہ انسان کو معلوم ہو جائے تو وہ دنیا میں کس لیے ایا ہے کا ذکر ہے جن پر اللہ تعالی نے اپنی نعمتیں نازل فرمائی تھی اور ان لوگوں نے ناشکری کی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر ہے۔اللہ کے گھر کے تعمیر اور قبلہ بنانے پر بات ہو رہی ہے۔اس سورہ  میں تمام مسائل کا حل موجود ہے۔

آیات(1تا18)

تفسیر (TAFSEER)
  1. سورہ کے شروع میں الف لام میم اتا ہے یہ حروف مقطعات ہیں  ان کا مطلب اللہ کی ذات کے سوا کسی کے علم میں نہیں ہے ۔
  2. دوسری آیت میں بتایا گیا ہے کہ اس کتاب میں کسی قسم کی شک کی کوئی گنجائش نہیں سراپہ ہدایت ہے ۔کیونکہ جب کوئی انسان کوئی کتاب لکھتا ہے یا کوئی چیز بھی لکھتا ہے تو اس میں شک کیا جا سکتا ہے لیکن اس کتاب کو لکھنے والی ذات  اللہ تعالی کی ہے اس میں کسی قسم کی شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔اس ایت میں بتایا ہے کہ اس کتاب میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں ہے مطلب ہدایت ہے صرف پرہیزگاروں کے لیے۔
  3. تیسری آیت میں ایمان والوں کے بارے میں بتایا ہے وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ پاک نے ان کو جو رزق دیا ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں (صدقات اور زکوٰۃ).
  4. آیت نمبر چار میں اس بات کا ذکر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جو وحی( قرآن پاک) نازل ہوا ہے اس پر یقین رکھتے ہیں اور جو اس سے پہلے کتابیں نازل ہوئی باقی  انبیاء پر ان پر بھی یقین رکھتے ہیں ۔اور اخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں اس دن تمام لوگوں کے نامہ اعمال کا حساب ہوگا۔
  5. آیت نمبر پانچ میں یہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے ہیں یعنی جو لوگ اللہ پر فرشتوں پر اس کے رسولوں پر اس کی کتابوں پر یقین رکھتے ہیں حقیقت میں وہی فلاح پانے والے ہیں ۔
  6. آیت نمبر چھ میں اس بات کا ذکر ہے وہ کافر لوگ ایسے ہیں کہ جن کو اپ ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔جن لوگوں نے ایمان نہیں لانا تھا ان کو اپ جتنی دفعہ بھی دعوت دیں وہ ایمان نہیں لائیں گے ان کے دل سیاہ ہو گئے۔ کفر پر ڈٹ گئے ہیں۔
  7.  آیت نمبر سات میں جنہوں نے پکا ارادہ کر لیا ہے کفر پر ڈٹے رہیں گے اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی انکھوں کے سامنے کر پردے ہیں جو لوگ جان بوجھ کر ہدایت پر عمل نہیں کرتے ان کے لیے اللہ تعالی نے بڑا عذاب تیار کر کے رکھا۔
  8. ایت نمبر اٹھ میں منافقوں کا ذکر ہے وہ جب مسلمانوں کے سامنے ہوتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اور جب اپنے کافروں کے پاس ہوتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان نہیں لائے ہم تو ویسے ہی مسلمانوں کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔
  9. آیت نمبر نو میںوہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ نیک لوگوں کو اور اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں اصل میں وہ اپنے آپ کو دھوکہ میں رکھے ہوئے ہیں ان کو یہ بات بالکل اس وقت سمجھ نہیں آ رہی ۔
  10. آ یت نمبر دس میں اس بات کا ذکر ہے کہ شروع میں جن لوگوں نے گمراہی کا راستہ اپنایا ان کے دل میں ایک قسم کی بیماری تھی اللہ نے ان کی مدد کی اور ان کی بیماری کو اور بڑھا دیا کو اور ان کو کبھی ایمان لینے کی ہدایت نصیب نہیں ہوئی۔
  11. آیت نمبر گیارہ میں جو لوگ فساد کرتے ہیں جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔
  12. آیت نمبر بارہ میں یہ لوگ ہی فساد کرنے والے ہیں مگر اس بات کا ان کو علم نہیں ہے ۔
  13. آیت نمبر تیرہ میں کہتے ہیں ایمان لے اؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے ائے اس طرح جس طرح نہ سمجھ لوگ ایمان لےآئے اصل میں یہ خود نہ سمجھ ہے ان کو اس بات کا شعور نہیں۔
  14. آیت نمبر چودہ میں جب مسلمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں ہم تو ایمان لے ائے ہیں اور جب اپنے کافروں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم کیوں ایمان لے آتے ہم تو ان لوگوں سے مذاق کرتے ہیں۔
  15. آیت نمبر پندرہ میں پھر اللہ پاک بھی ان لوگوں سے مذاق کرتے ہیں اور ان لوگوں کی رسی کو دراز کر دیتے ہیں ان کی منافقت کی وجہ سے۔
  16. آیت نمبر سولہ میں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی کو خریدا ان کو کچھ فائدہ نہیں دے گی ان کی یہ خرید و فروخت ان لوگوں کو کبھی ہدایت نصیب نہیں ہوگئی۔
  17. آیت نمبر سترہ میں ان لوگوں کی مثال ایسے ہے کہ جن کو واضح نظر ا رہا ہوتا ہے اسلام کے دلائل ہیں پر وہ ان پر عمل نہیں کرتے پھر اللہ پاک ان پر ہدایت کے دروازے نہیں کھولتا۔
  18. آیت نمبر اٹھارہ میں گونگے ،بہرے اور اندھے ہیں یہ کبھی واپس نہیں آئے گئے

Post a Comment

0 Comments